مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو

مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو

نہ پِھر سے پردہ اُٹھاؤ مِرا کمینو! اُٹھو

 

تمھارے باپ ہیں گُونگے سو کچھ کہو نُطفو

پکارتے ہوئے کوکھوں سے اے جنینو ! اُٹھو

 

یہاں پہ ہر کوئی ہنس ہنس کے ہم سے مل رہا ہے

یہاں پہ جان کا خطرہ ہے ہم نشینو! اُٹھو

 

ہمارا حق کبھی ایسے نہیں ملے گا ہمیں

لہٰذا پکڑو گریبان اور چِھینو اُٹھو

 

تمہیں زیارتِ کعبہ سے بھی کہیں پہلے

طوافِ دِل کی ضرورت ہے عازمِینو! اُٹھو

 

خُدا کی جنت و دوزخ کو بانٹنے والو

ہمارے مِنبر و مسجد سے، مُشرکینو! اُٹھو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ