مِرا ہر رنج مِٹتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

مِرا ہر رنج مِٹتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

سُکونِ قلب مِلتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

 

نبی کی یاد میں کھو کر تصوّر بھی سفر کر کے

مدینے میں پہنچتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

 

خدا کی بارگہ سے رَحمتوں کے پھول مِلتے ہیں

مقدّر بھی سنورتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

 

مِرے آنگن میں خوشیاں بھی مکیں ہونے کو آتی ہیں

اُجالا گھر میں ہوتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

 

ہوائیں گلشنِ دِل کو جِلا پھر بخش دیتی ہیں

گُلِ جاں بھی نِکھرتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

 

مجھے سب عِزتوں کی مسندوں پر بھی بِٹھاتے ہیں

رضاؔ اِکرام ہوتا ہے دُرودِ پاک پڑھتے ہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مر بھی جائے تو تری بات سے جی اُٹھتا ہے
جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو
شبِ تمنا کے رتجگے میں نئی سحر کا نصاب لکھا
حُبِ احمدﷺ کا صلہ بولتا ہے
جی جگر ان پر لٹاتے آئے ہیں
جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں
سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زباں سے بکھرنے لگے
آپﷺ آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
تیرا نادان آقا کوئی اور ہے
جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں