مِری آنکھ برکھا کا بے مہر پانی

مِری آنکھ برکھا کا بے مہر پانی

تِری لہر بجلی ، مِری لہر پانی

 

کہ چھلکے ہیں دریا کے جب بھی کنارے

بہا لے گیا بستیاں ، شہر پانی

 

اُتر آئے آنکھوں میں برسات موسم

نظر آیا پھر دہر کا دہر پانی

 

ق

 

اُبھر آتا ہے ڈوبتا دوست چہرہ

میں جب دیکھتا ہوں کبھی نہر ، پانی

 

کسی کے لئے ہوگا تریاق اشعرؔ

مِرے واسطے بن گیا زہر پانی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا

اشتہارات