مِری نظر تھا اندھیروں میں ڈھل گیا مجھ سے

مِری نظر تھا اندھیروں میں ڈھل گیا مجھ سے

وہ میرا آپ تھا اِک دن بدل گیا مجھ سے

 

وہ میرے جسم میں تھا موجزن لہو کی طرح

اب ایسا لگتا ہے جیسے نکل گیا مجھ سے

 

میں جانتا تھا ترا پیار مار ڈالے گا

سو اپنے آپ پہ اِک تیر چل گیا مجھ سے

 

وہ ایک خواب تھا رنگین مچھلیوں جیسا

نگاہ برف ہوئی تو پھسل گیا مجھ سے

 

مرا جنون تھا یا تیرے پیار کی شدت

ترا کلف لگا کُرتا مسل گیا مجھ سے

 

نجانے کیسے اُتر آیا ہاتھ میں سورج

وہ تتلیوں کا بدن تھا پگھل گیا مجھ سے

 

مِرے شعور کی پرواز دیکھ کر اشعرؔ

تمہارے شہر کا ہر فرد جل گیا مجھ سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے