مِری نظر تھا اندھیروں میں ڈھل گیا مجھ سے

مِری نظر تھا اندھیروں میں ڈھل گیا مجھ سے

وہ میرا آپ تھا اِک دن بدل گیا مجھ سے

 

وہ میرے جسم میں تھا موجزن لہو کی طرح

اب ایسا لگتا ہے جیسے نکل گیا مجھ سے

 

میں جانتا تھا ترا پیار مار ڈالے گا

سو اپنے آپ پہ اِک تیر چل گیا مجھ سے

 

وہ ایک خواب تھا رنگین مچھلیوں جیسا

نگاہ برف ہوئی تو پھسل گیا مجھ سے

 

مرا جنون تھا یا تیرے پیار کی شدت

ترا کلف لگا کُرتا مسل گیا مجھ سے

 

نجانے کیسے اُتر آیا ہاتھ میں سورج

وہ تتلیوں کا بدن تھا پگھل گیا مجھ سے

 

مِرے شعور کی پرواز دیکھ کر اشعرؔ

تمہارے شہر کا ہر فرد جل گیا مجھ سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ