اردوئے معلیٰ

مکالمہ

سو میں نے کہا اُس پری زاد سے

کہ سُن تو سہی میری آنکھوں کی چاپ

 

مرے دل کے ہونٹوں پہ ہے دم بہ دم

ترے حُسن کی راگنی کا الاپ

 

تجھے بھی تو رکھتی ہے دن رات مست

تری دھڑکنوں کی جنوں خیز تھاپ

 

تو سچ سچ بتا کیا یہ ممکن نہیں ؟

کہ ہو جائے دونوں دلوں کا ملاپ

 

پگھل جائے گی سرد مہری کی برف

مرے پاس آ ، وصل کی آگ تاپ

 

سمجھ تو گئی تھی وہ جانِ حیا

سو اقرار کی تھی نگاہوں پہ چھاپ

 

مگر کم سُخن تھی سو کہنے لگی

کہ رحمان فارس! بڑے وہ ہیں آپ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ