مکان ہو کوئی یا لا مکان تیرا ہے

مکان ہو کوئی یا لا مکان تیرا ہے

تو لاشریک ہے سارا جہان تیرا ہے

 

عظیم خلق میں رکھا ہمیں ترا احسان

نبیؐ کا عشق ملا ہے تو دان تیرا ہے

 

کہوں میں نعت کبھی حمد میں بیان کروں

سکھا رہا ہے مجھے جو قران تیرا ہے

 

نہیں ہے کوئی سزاوارِ بندگی مولا

جبین رکھنے کو بس آستان تیرا ہے

 

کریم تیرا ہی بندہ ہے یہ جو پرنم ہے

جھکا ہے شرم سے جو نیم جان تیرا ہے

 

ترے کرم سے ہی جنت میں جائیں گے مولا

جو آسرا ہے اگر درمیان تیرا ہے

 

جھکائے سر تری سرکارؐ میں دعا گو ہوں

عطا کو بخش دے یہ مدح خوان تیرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ
لبِ ازل کی صدا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ
میرے اشکوں میں مری فریاد، دل برسائے گا
حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا
کرم کا سائباں سر پر ہے میرے
خدا کی ذات کا فضل و کرم ہے
خدا کے گھر سے گرچہ دُور ہوں میں
خدا کے حمد گو گلشن چمن ہیں
خدا کی کبریائی ہے نگہ میں