مکین ہے جو سرِ لا مکاں سمجھتا ہے

مکین ہے جو سرِ لا مکاں سمجھتا ہے

مقام آپ کا کوئی کہاں سمجھتا ہے

 

ہیں آپ منبع ء اخلاق مرجعء انوار

یہ بات دوستو! سارا جہاں سمجھتا ہے

 

وہی رہا ہے کڑی دھوپ سے سدا محفوظ

جو دستِ مصطفے کو سائباں سمجھتا ہے

 

مقامِ سدرا سے آگے مقام ہے اُن کا

مقام اُن کا بھلا تُو کہاں سمجھتا ہے

 

یہاں سمجھتے ہیں آقا ہمارے دردوں کو

وہاں وہ مولا سرِ آسماں سمجھتا ہے

 

پکارتا ہے یہ دل مشکلوں میں آقا کو

درودِ پاک کو اپنی اماں سمجھتا ہے

 

جو اصلِ نورِ محمد ہے اصلِ نورِ خدا

کہاں یہ ہر کوئی رازِ نہاں سمجھتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ