مہبطِ نور میں ہے نور سے ڈھالی جالی

مہبطِ نور میں ہے نور سے ڈھالی جالی

دونوں عالم میں نہیں ایسی مثالی جالی

 

ہم کہاں دیدِ شہِ کون و مکاں کے قابل

ہم نے پلکوں کے کناروں پہ سجالی جالی

 

جب سے دیکھا ہے کرم بار سنہری منظر

دھڑکنیں ورد کئے جاتی ہیں جالی جالی

 

قلبِ مغمُوم کو مسرُور کیا ٹھنڈک نے

میں نے جب خواب میں سینے سے لگالی جالی

 

باعثِ راحت و تسکیں ہے مواجہ کی چمک

شاہ کی قربتِ پیہم سے ہے عالی جالی

 

روزِ محشر مرے اشکوں کی گواہی دے گی

میری آنکھوں کا وضو دیکھنے والی جالی

 

میں ہوں اشفاق اِدھر قاسمِ نعمت ہیں اُدھر

درمیاں شاہدِ کشکولِ سوالی جالی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ کے بعد نام ہے میرے حضور کا
ہے دل میں جلوۂ رُخِ تابانِ مصطفےٰ
عیدِ میلاد ہے آج کونین میں ، ہر طرف ہے خوشی عیدِ میلاد کی
آنکھوں میں اشک، دل میں ہو الفت رسول کی
اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو
آپ نےاک ہی نظرمیں مجھکوجل تھل کردیا
عدو کے واسطے، ہر ایک امتی کے لیے
نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں
اندازِ کرم بھی ہے جدا شانِ عطا بھی
محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

اشتہارات