اردوئے معلیٰ

مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضور کا

 

مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضور کا

اک سرو نور ہے قد موزوں حضور کا

 

جس کے لیے شفاعت امت کا تاج ہے

لاریب ہے وہ فرقِ ہمایوں حضور کا

 

ذکر آپ کا بلند کیا کردگار نے

چرچا ہے کائنات میں افزوں حضور کا

 

شیدائے حسن خلق ہیں اپنے بھی غیر بھی

عالم تمام طالب و مفتوں حضور کا

 

جانے خدا ہی منزل معراج آپ کی

پہلا ہی سنگ میل ہے گردوں حضور کا

 

تائب ہے مال و جاہ پہ اہل جہاں کو ناز

مجھ کو یہ فخر مدح سرا ہوں حضور کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ