اردوئے معلیٰ

Search

مہکی ہوئی من کی جو فضا دیکھ رہا ہوں

آتی ہوئی طیبہ کی ہوا دیکھ رہا ہوں

 

ہو جائے کبھی مجھ کو شہا اذنِ حضوری

میں تیری طرف جانِ وفا دیکھ رہا ہوں

 

اللہ کا گھر وا ہوا ، سرکار کا در بھی

ٹلتی یہ کرونا کی وبا دیکھ رہا ہوں

 

سرکارِ دو عالم کے ہے چہرے کا یہ پرتو

جوچرخ پہ تاروں میں ضیا دیکھ رہا ہوں

 

جس بات پہ راضی ہے وہ محبوبِ مکرم

اس بات میں مالک کی رضا دیکھ رہا ہوں

 

سایہ ہو میسر اسے زہراؑ کی رِدا کا

بیٹی کی میں آنکھوں میں حیا دیکھ رہا ہوں

 

الحمد! کہ آیا ہوں میں سرکار کے در پر

خاطی ہوں، پہ تاثیرِ دعا دیکھ رہا ہوں

 

اس ملک پہ سرکار کی رحمت کے تصدق

چھاتے ہوئے رحمت کی گھٹا دیکھ رہا ہوں

 

لے جاؤ مجھے چارہ گرو شہرِ نبی میں

میں خاکِ مدینہ میں شفا دیکھ رہا ہوں

 

جھکتا ہے جلیل ان کے اشارے پہ قمر بھی

جھولے میں وہ انگلی کی ادا دیکھ رہا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ