مہک کے گنبدِ خضرا سے جب بھی تو آئے 

مہک کے گنبدِ خضرا سے جب بھی تو آئے

ہوا سے سانس کو جنت کی مشک بو آئے

 

درود جیسے تخیل سے لب پہ وارد ہو

خیال جھٹ سے مدینے کو جاکے چھو آئے

 

درود پڑھ کے سماعت شریک ہوتی ہے

کہیں جو کان میں سیرت کی گفتگو آئے

 

تو داستانِ مدینہ کو یوں سنا زائر

مزا جو پایا ہے تونے وہ ہو بہو آئے

 

درود پڑھ کے وہ پھر نعت میں سماتا ہے

جو آئے شعر تخیل میں با وضو آئے

 

اے دل حضورؐ کے دیدار کی طلب ہے تجھے

کرے گا سامنا کیسے جو رو برو آئے

 

حضورؐ کیجیے تاثیر اب عطا مجھ کو

پڑھوں جو نعت تو آواز کو بہ کو آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے
دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو
ان کے نام پاک پر مرجائیے
وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد
دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے
آنے والو یہ بناوؔ شہرِ مدینہ کیسا ہے
چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں
در جاں چو کر منزل، جانانِ ما محمد
خامشی ، غارِ حرا ، دِل میرا
اُنہی کا نور پھیلا ہے جدھر دیکھو جہاں دیکھو