اردوئے معلیٰ

میرا اظہارِ محبت اُسے ناکافی ہے

ائے مرے ظرفِ سخن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

دل کو کم بخت لگے آگ اگر لگتی ہے

اور ائے دل کی چبھن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

رونقِ بزمِ تصور تھی کہیں جو نہ رہی

گردشِ چرخِ کہن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

جا، مری روح ، جہاں بھی تجھے جانا ہے ، جا

اور ائے میرے بدن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

نیند آتی ہے شبِ وصل زلیخا کو تری

یوسفِ مصرِ سخن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

دشتِ ویران ، فنا ہوں تو بلا سے میری

رونقِ باغِ عدن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

آخرِکار کہیں کا بھی نہ چھوڑا دل کو

جذبہِ دل کی لگن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

حیف ہے ائے مری خودساختہ وحشت تُف ہے

میرے بے ساختہ پن بھاڑ میں جائے تُو بھی

 

شدتِ کرب کہ الفاظ میں ڈھلتی ہی نہیں

حرف و تخلیق کے فن بھاڑ میں جائے تُو بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات