میرا دامن تو صاف تھا لیکن

میرا دامن تو صاف تھا لیکن

شہر سارا خلاف تھا لیکن

 

اِک پری کی مجھے بھی چاہ رہی

درمیاں کوہ قاف تھا لیکن

 

پیار تھا اُس کی ذات سے گہرا

سوچ سے اختلاف تھا لیکن

 

یہ الگ ہے گِلے رہے اُس سے

زندگی کا طواف تھا لیکن

 

آنکھ کی جھالروں پہ شبنم تھی

قہقہہ واشگاف تھا لیکن

 

دھوپ لمحوں میں سائباں میرا

برف رُت میں لحاف تھا لیکن

 

مجھ پہ تعزیر لگ گئی اشعرؔ

جرم اُس کا معاف تھا لیکن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ