میرا دامن تو صاف تھا لیکن

میرا دامن تو صاف تھا لیکن

شہر سارا خلاف تھا لیکن

 

اِک پری کی مجھے بھی چاہ رہی

درمیاں کوہ قاف تھا لیکن

 

پیار تھا اُس کی ذات سے گہرا

سوچ سے اختلاف تھا لیکن

 

یہ الگ ہے گِلے رہے اُس سے

زندگی کا طواف تھا لیکن

 

آنکھ کی جھالروں پہ شبنم تھی

قہقہہ واشگاف تھا لیکن

 

دھوپ لمحوں میں سائباں میرا

برف رُت میں لحاف تھا لیکن

 

مجھ پہ تعزیر لگ گئی اشعرؔ

جرم اُس کا معاف تھا لیکن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے
محور
اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
ممکن ہوا نہ لوٹ کے آنا کبھی مجھے

اشتہارات