میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا

میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا

مجھے نا معتبر ، میرا خدا ہونے نہیں دیتا

 

مری فردِ عمل دھو کر مِری اشکِ ندامت سے

میری لغزش کو وہ میری خطا ہونے نہیں دیتا

 

عتاب اس کا میرے کردار پر نازل نہیں ہوتا

کہ وہ توّاب ہے محشر بپا ہونے نہیں دیتا

 

عطا کچھ اس طرح کرتا ہے وہ افکار کی دولت

میرے ذوقِ ہنر کو نارسا ہونے نہیں دیتا

 

عطا کرتا ہے نعتیں‌ مجھ کو لمحاتِ تہجد میں

کرم کرتا ہے مجھ کو بے نوا ہونے نہیں دیتا

 

میری ہر احتیاج اسکے کرم کے دائرے میں ہے

مجھے محتاجِ دستِ ماسوا ہونے نہیں دیتا

 

میں سر سے پاؤں تک اس کی عطا کے سائباں میں ہوں

وہ غافر مجھ پر فتنوں کو بپا ہونے نہیں‌ دیتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ
لبِ ازل کی صدا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ
تیری قدرت کی خوشبو، ہر گل ہر ذرے میں تُو
خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا
خدا کا شُکر کرتا ہوں، خدا پر میرا ایماں ہے
خدا اعلیٰ و ارفع ہے، خدا عظمت نشاں ہے
حرم کے سائے میں سارے مسلماں رُوبرو بیٹھیں
خدا کے حمد گو جنگل بیاباں
جو احکامِ خدا سے بے خبر ہے