میری حسرت مٹائیے آقا

میری حسرت مٹائیے آقا

اپنا طیبہ دکھائیے آقا

 

میری آنکھوں کو چین آئے گا

دید اپنی کرائیے آقا

 

اس طرف بھی صبا کا رُخ کیجے

دل کا گلشن کھلائیے آقا

 

گردشِ بحر میں میری ناؤ

التجا ہے بچائیے آقا

 

غم کا مارا ہوں ، بے سہارا ہوں

مجھ کو سینے لگائیے آقا

 

اپنی رحمت کی اک نظر کیجے

بگڑی قسمت بنائیے آقا

 

نار کا خوف ہے گناہ بہت

آئیے ، بخشوائیے آقا

 

مجھ رضاؔ پر بھی ہو نگاہِ کرم

پاس اپنے بلائیے آقا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
بدرِ حرا طلوع ہوا ظلمتوں کے بیچ
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
لمعۂ عشقِ رسول ، عام ہے اَرزاں نہیں
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات