اردوئے معلیٰ

میری قسمت کا تھا رنگ کالا بہت

نامِ احمد نے اس کو اجالا بہت

 

پیٹ بھر کے پیا صفہ والوں نے سب

ہو گیا دودھ کا ایک پیالہ بہت

 

منتشر ہو رہی تھی میری زندگی

ذکرِ سرور نے مجھ کو سنبھالا بہت

 

ہم پہ شاہِ امم کے سبب سے ہوئی

مہرباں رحمتِ حق تعالیٰ بہت

 

دل کا یثرب مدینہ سا بن جاتا ہے

یاد آتا ہے جب کملی والا بہت

 

میں تہی دست تھا بے عمل شخص تھا

کام شعر و سخن سے نکالا بہت

 

سروری برتری کچھ نہیں چاہیے

ہے ترے نام کی مجھ کو مالا بہت

 

اس کی چھاؤں میں بیٹھا ہوں آرام سے

نعت کے پیڑ کو میں نے پالا بہت

 

دل میں مظہرؔ نہیں خوفِ روزِ جزا

بس شفیعِ امم کا حوالہ بہت

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات