اردوئے معلیٰ

Search

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے

تیری حسرتوں میں تیری چاہتوں میں بڑے دن ہوئے گھر سجاتے سجاتے

 

قیامت کا منظر بڑا پر خطر ہے مگرمصطفی کا جو دیوانہ ہوگا

وہ پل پے گزرے گا مسرور ہو کے نعرہ نبی کا لگاتے لگاتے

 

میرا یہ ہے ایماں یہ میرا یقیں ہے میرے مصطفی سا نہ کوئی حسیں ہے

کہ رخ ان کا دیکھا ہے جب سے قمر نے نکلتا ہے منہ کو چھپاتے چھپاتے

 

میرے لب پے مولا نہ کوئی صدا ہے فقط مجھ نکمے کی یہ ہی دعا ہے

میری سانس نکلے درمصطفی پے غم دل نبی کو سناتے سناتے

 

یہ دل جب سے عشق نبی میں پڑا ہے نہ دن کی خبر ہے نہ شب کا پتہ ہے

آقا اب تو بصارت بھی کم ہو گئی ہے تیرے غم میں آنسو بھاتے بھاتے

 

یہ ماناکہ اک دن آنی قضا ہے مگر دوستو تم سے یہ التجا ہے

کہ شہر محمد کی ہر اک گلی سے جنازہ اٹھانا گھماتے گھماتے

 

نہ کعبے سے مطلب نہ مسجد کی چاہت فقط دل میں حاکمؔ تمنا یہی ہے

جو مل جائے نقش کف پائے احمد تو مر جائیں سر کو جھکاتے جھکاتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ