میرے آقا دیں گواہی جس کی ارفع شان کی

میرے آقا دیں گواہی جس کی ارفع شان کی

مدح کر سکتا ہے کوئی کیا بھلا عثمان کی

 

نور دو بخشے گئے جس کو حریمِ نور سے

ہمسری ممکن نہیں عثمان بن عفّان کی

 

منکشف ہوگی اسی پر شانِ عثمانِ غنی

جان لے گا جو حقیقت بیعتِ رضوان کی

 

کر دیا نعت آشنا کو آشنا عثمان سے

چاکری میں نے بھی کی ہے جامع القرآن کی

 

نام ہے میرا بھی مداحینِ ذوالنورین میں

گرچہ میں اشفاق مشتِ خاک ہوں ملتان کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حیدرؓ کہ نورِ عین فلک بارگاہ کی
ایمان کا نشان ہیں سلمان فارسی
بے سہاروں کا سہارا حضرتِ صدیقؓ ہیں
بابا ہیں ترے شاہِ عرب سیدہ زینب
سیادتوں کا حسیں انتخاب ہیں زہرا
قصر طاغوت میں اک زلزلہ آیا ہو گا
نصیب تھا علی اصغر کا یار بچپن میں
کیسے رکھتا میں آنکھوں کا نم تھام کر
نعت لکھنے کا جب بھی ارادہ کیا
آتا ہے یاد شاہِ مدینہ کا در مجھے

اشتہارات