اردوئے معلیٰ

Search

میرے افکار ہوں محرومِ ضیا ناممکن

وہ سکھائیں نہ مجھے طرزِ ادا، ناممکن

 

سوئے طیبہ درِ دل میں نے کھلا رکھا ہے

میرے گھر آئے نہ طیبہ کی ہوا، ناممکن

 

خانۂ دل میں ہیں مہمان رسولِ عربی

غیر محرم کوئی آ جائے بھلا، ناممکن

 

صرف ہمت سوئے آں شاہدِ اعظم کر دم

بے خیال ان کے ہو سجدہ بھی ادا، ناممکن

 

ان کی توہین اور امیدِ شفاعت، توبہ

بے وفاؤں کو ملے دادِ وفا، ناممکن

 

میرا دل ٹوٹا تو آواز سنی دنیا نے

کیا نہ سُن پائیں گے وہ دل کی صدا، ناممکن

 

سر ہو، سودائے محبت ہو، تیری چوکھٹ ہو

ایسے میں دل نہ ہو سجدے میں جھکا ناممکن

 

حشر میں جب کہ اُٹھے داغِ محبت لے کر

پھر قمرؔ پائے نہ جنت کی فضا، ناممکن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ