میرے دل میں ہے یادِ محمدؐ میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

میرے دل میں ہے یادِ محمدؐ میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

تاجدارِ حرم کے کرم سے آ گیا زندگی کا قرینہ

 

میں غلامِ غلامانِ احمد میں سگِ آستانِ محمد

قابلِ فخر ہے موت میری قابلِ رشک ہے میرا جینا

 

دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہِ دو عالم

جب سے مہماں ہوئے ہیں وہ دل میں، دل مرا بن گیا ہے مدینہ

 

ہر خطا پرمری چشم پوشی ہرطلب پر عطاؤں کی بارش

مجھ گناہ گار پرکس قدرہیں مہرباں تاجدارِ مدینہ

 

مجھ کو طوفاں کی موجوں کا کیا ڈر یہ گزر جائیں گی رخ بدل کر

ناخُدا ہیں مرے جب محمد کیسے ڈوبے گا میرا سفینہ

 

دولتِ عشق سے دل غنی ہے میری قسمت ہے رشکِ سکندر

مدحتِ مصطفٰی کی بدولت مل گیا ہے مجھے یہ خزینہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے
سرمایہ جاں ہیں شہِ ابرار کی باتیں
جم گیا ہے مری آنکھوں میں یہ نقشہ تیرا
وہ جس سے مری آنکھ ہے بینا، ہے مدینہ
کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے
آگیا تقدیر سےمیری مدینہ آ گیا
ہر علم کی تخلیق کے معیار سے پہلے
یہی درد ہے میری زندگی کہ عطائے عشقِ رسول ہے
حشر تک نعتیہ تحریر مقالے ہوں گے
بن کے خیر الوریٰ آگئے مصطفیٰ ہم گنہ گاروں کی بہتری کے لیے

اشتہارات