اردوئے معلیٰ

میرے دل کا دماغ تھا ہی نہیں

ورنہ اس کا سراغ تھا ہی نہیں

 

مجھ کو کب تھے پسند اندھیارے

میرے گھر میں چراغ تھا ہی نہیں

 

دل کی باتوں کو کوئی جانتا کیا

کوئی روشن دماغ تھا ہی نہیں

 

روح سے خون رس رہا تھا اور

میرے دامن پہ داغ تھا ہی نہیں

 

صرف تیری ہنسی میسر تھی

شہر میں کوئی باغ تھا ہی نہیں

 

رات بھی ہو چلی تھی گہری اور

اس پہ تیرا سراغ تھا ہی نہیں

 

کام کتنے رکے پڑے تھے زبیرؔ

دل کو غم سے فراغ تھا ہی نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات