اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

میرے سارے موسم تم ہو

آج کسی کی زلفیں بھی تو
سلجھی سلجھی سی لگتی ہیں
آج مزاجِ یار میں دیکھو
پہلے سی تلخی بھی نہیں ہے
آج کسی کے ساتھ کی چاہت
لفظ دعائیں مانگ رہے ہیں
مجھ سے فون پہ جب کہتی ہے
آج کے جیسا موسم ہو  نا
آپ بہت ہی یاد آتے ہیں
رِم جھم رِم جھم موسم ہے نا
کتنا اچھا موسم ہے نا!
آج کہ دن پر بھی کچھ لکھیئے
ویسے تو ہر چھوٹی چھوٹی
بات پہ شاعر بن جاتے ہیں
موسم پر ہی کچھ لکھ دیجے
یعنی وہ کہنا چاہتی تھی
موسم کو میں ڈھال بنا کر
اُس کے بارے میں کچھ لکھوں
تو یہ لکھا۔۔
بارش ہو یا کالے بادل
دھوپ، ہوا، سردی یا دھند ہو
چاہے موسم ہریالی کا
یا پھر پت جھڑ خون رُلائے
میرے بادل، میری بارش
مِری بہاریں، میرے پت جھڑ
دھوپ، ہَوا، سردی یا دھندبھی
میری صبحیں ، میری شامیں
میرے سارے موسم تم سے
میرے سارے موسم تم ہو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جنتِ گم کشتہ
وہ بُھولا بسرا نام
شامِ انتخاب 1970ء
آؤ ماتم کریں اُداسی کا
میرے چہرے پہ لگے زخم یہ بتلاتے ہیں
تیری دید چھین کے لے گئی ہے بصیرتیں
دردِ الفت کی جاودانی تھی
طلسم خانۂ امریکہ
عنایت
صبحِ غم بسلسلۂ مرگِ زوجۂ دوم (1980ء)