اردوئے معلیٰ

Search

میرے سنگ مزار پر فرہاد

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

 

ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال

جان کے ساتھ ہے دل ناشاد

 

موند آنکھیں سفر عدم کا کر

بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد

 

فکر تعمیر میں نہ رہ منعم

زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد

 

خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں

کس خرابے میں ہم ہوئے آباد

 

سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد

نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد

 

لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم

خاک کس دل جلے کی برباد

 

بھولا جائے ہے غم بتاں میں جی

غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد

 

تیرے قید قفس کا کیا شکوہ

نالے اپنے سے اپنے سے فریاد

 

ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز

باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد

 

ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں

اپنی قید حیات سے آزاد

 

ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح

جانا سو جائے اس کی ہے معتاد

 

نہیں صورت پذیر نقش اس کا

یوں ہی تصدیق کھینچے ہے بہزاد

 

خوب ہے خاک سے بزرگوں کی

چاہنا تو مرے تئیں امداد

 

پر مروت کہاں کی ہے اے میرؔ

تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد

 

نامرادی ہو جس پہ پروانہ

وہ جلاتا پھرے چراغ مراد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ