میرے ہر دم میں ترے دم سے بڑا دم خم ہے

میرے ہر دم میں ترے دم سے بڑا دم خم ہے

میرے ہر دم میں ترا دم ہے مجھے کیا غم ہے

 

میرے اللہ !میں مانگوں تو بھلا کیا مانگوں

میری پہچان محمدؐ ہے، بتا کیا کم ہے

 

رات جیون کی، مدین میں بسر ہو جائے

تیرے عشاق کے اظہار کا یہ عالم ہے

 

ایک قرآن ہے احسان ترا آدم پر

دوسرا عشق اگر ہے تو ترا پیہم ہے

 

کون فردوس کے دیدار سے گلؔ روکے گا

بس تیری یاد میں جو آنکھ فوراً بھی نم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے
خدا کے سامنے سر کو جھکا دو
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں
ہر دم تری ہی یاد ہے تیری ہی جستجو

اشتہارات