اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

میسج

بچھڑے ہوئے لمحوں کو
آواز نہیں دیتے
اُجڑے ہوئے نغموں کو
پھر ساز نہیں دیتے
جو غم سے بکھر جائیں
چُن لیتے ہیں وہ موتی
ہر جان سے پیارے کو
ہر راز نہیں دیتے
تم سے جو محبت ہے
پھر تم سے گلہ کیسا
بس اتنی شکایت ہے
جب دور نکل جاؤ
آواز نہیں دیتے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کر کے مولا سے دعائیں ایک گڑیا لی گئی
اگر تُو کہے تو
جنگِ ستمبر 1965ء
ادھ کھلی گرہ
شاعری
قدم قدم تے پِیڑ وے عشقا
دکھ تماشا لگائے رکھتا ہے
سوچتا ہوں صیدِ مرگ ِ ناگہاں ہو جاؤں گا
مجھے تمغۂ حُسنِ دیوانگی دو
انتخاب 1988ء