میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر

میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر

گِرا سرکارؐ کے قدموں میں آ کر

مٹائی بھوک آقاؐ نے بجھائی پیاس میری

محبت کی عطا اپنی، بنا ڈالا تونگر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے
جو عالم مدینے میں ہم دیکھتے ہیں
نہیں کوئی حبیبِ کبریاؐ سا
جب بھی ذکرِ رسولؐ ہوتا ہے
درِ خیر البشرؐ پیشِ نظر ہے
نبیؐ کا آستاں دار الاماں ہے
مری پرواز محبوبِ خُدا کے آستاں تک ہے
پُر خار زندگی کو پھر پُر بہار کر دو
’’عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طُرفہ دھوم دھام‘‘
’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘

اشتہارات