اردوئے معلیٰ

Search

میں اپنی دھوپ ترے در سے کیوں گزاروں گا

تجھے گمان ہے دیوار کو پکاروں گا؟

 

ابھی اتارنے جانا ہے قرض مٹی کا

میں تیری زلف کسی اور دن سنواروں گا

 

یہ سر پہ لادی گئی ہے جو ریت صحرا کی

میں اپنا بوجھ کسی جھیل میں اُتاروں گا

 

یونہی اٹھایا نہیں میں نے ہاتھ میں پتھر

اب اُس کا عکس دکھایا تو کھینچ ماروں گا

 

ہوا ہے، آگ ہے ، مٹی ہے اور نہ پانی ہے

میں تیرا نقش کہیں اور سے ابھاروں گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ