میں اپنی ذات سے ہجرت کا سانحہ سہہ لوں

میں اپنی ذات سے ہجرت کا سانحہ سہہ لوں

تمہارے ہجر کی افتاد کوئی چیز نہیں

 

میں چاہتا ہوں بتاؤں مگر بتاؤں کیا

یقین کر کہ مجھے یاد کوئی چیز نہیں

 

ہر ایک شب یہی مشکل کہ اب کہاں جاؤں

بنامِ خانہِ برباد کوئی چیز نہیں

 

وہ حال ہے کہ سرِ نامہِ کمال و ہنر

سوائے عزتِ اجداد کوئی چیز نہیں

 

مرے فنون کی بنیاد اک جنون سہی

تو کیا جنون کی بنیاد کوئی چیز نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں
تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو
شق ہوئی مصرِ تمنا کی زمیں، دفن ہوئے