میں باغِ مدحت میں کھل اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

میں باغِ مدحت میں کھل اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

مقدر اپنا بنا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

خزاں رسیدہ تھی جان میری کرم نے تیرے بہار بخشی

لقا سے تیرے میں جی اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

ہے مشک آگیں ہوائے طیبہ بہار آگیں فضائے طیبہ

چراغِ مدحت جلا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

درود اول درود آخر ہر اک سخن میں کیا ہے لازم

یوں قصرِ مدحت بنا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

سنہری جالی، حسین روضہ، نگاہِ دل میں ہے جلوہ فرما

مدینہ ثانی میں جی رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

میں سر جھکائے ہجومِ عشاق میں عقیدت کے پھول لے کر

بہ پاسِ حدِ ادب کھڑا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

خدائے برتر کے روبرو بس تری یہ نعتیں رکھے گا منظرؔ

یوں اپنا نامہ سجا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہجر میں سوزِ دل تو ہے خیرِ انام کے لیے
ہر چند مدح اس کی سب اہلِ ہنر کریں
شہرِ طیبہ میں میسر روح و دل کو تھا سکوں
کب علم میں اتنی وسعت ہی
یارب کبھی تو خواب میں وہ در دکھائی دے
ہمہ والعصر اور والدّھر ہے عظمت محمدؐ کی
دو عالم میں ہر شے کی جاں ہیں محمدؐ
غم سبھی راحت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں
اُن کی جب بات چلی خوب چلی کیا کہنے!
تری نگاہ سے ذرے بھی مہر و ماہ بنے