میں باغِ مدحت میں کھل اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

میں باغِ مدحت میں کھل اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

مقدر اپنا بنا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

خزاں رسیدہ تھی جان میری کرم نے تیرے بہار بخشی

لقا سے تیرے میں جی اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

ہے مشک آگیں ہوائے طیبہ بہار آگیں فضائے طیبہ

چراغِ مدحت جلا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

درود اول درود آخر ہر اک سخن میں کیا ہے لازم

یوں قصرِ مدحت بنا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

سنہری جالی، حسین روضہ، نگاہِ دل میں ہے جلوہ فرما

مدینہ ثانی میں جی رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

میں سر جھکائے ہجومِ عشاق میں عقیدت کے پھول لے کر

بہ پاسِ حدِ ادب کھڑا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

خدائے برتر کے روبرو بس تری یہ نعتیں رکھے گا منظرؔ

یوں اپنا نامہ سجا رہا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ