اردوئے معلیٰ

میں بہت ہی ظلم کر بیٹھا ہوں اپنی جان پر

تیری رحمت پر بھروسہ کر رہا ہوں رات دن

زندگی ساری گناہوں میں تو میں نے کاٹ دی

مغفرت درکار ہے یا رب!کہ ہے ساعت کٹھن

 

۰۰۰

 

باقی ماندہ زندگی پَر ہو فقط مُہرِ سُنَن

تاکہ میں دکھلا سکوں کوکب بھی کچھ اعمال میں

تیرگی کے غار ہی میں نے بسائے ہیں سدا

روشنیٔ اُسوۂ احمد ہو اب احوال میں

 

۰۰۰

 

ہے ندامت تیرے دربارِ کرم میں باریاب

اس لیے میں چند آنسو لے کے حاضر ہو گیا

تیری رحمت ہے غضب پر تیرے، حاوی اے کریم!

ہو قبول اس بندۂ عاجز کی اب یہ اِلتجا

 

۰۰۰

 

یعنی میری مغفرت کا فیصلہ کر دے کریم!

تیری عفو و درگزر کا آئے مجھ تک سلسلہ

مجھ کو بھی احساس ہو، ہوں مغفرت کے سائے میں

دنیوی ماحول میں ایسی نشانی بھی دکھا

 

اِلتجائے عفو و بہ بارگاہِ رب العزت :جمعہ: ۵؍محرم الحرام ۱۴۳۸ھ مطابق: ۷؍اکتوبر۲۰۱۶ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات