اردوئے معلیٰ

میں بے قرار ہوں مجھ کو قرار دے ربیّ

میں بے قرار ہوں مجھ کو قرار دے ربیّ

مرا نصیب و مقدر سنوار دے ربیّ

 

ہوا ہے گلشنِ امّید میرا پژمردہ

خزاں کی کوکھ سے فصلِ بہار دے ربیّ

 

قدم قدم پہ ہیں خارِ نفاق و بغض و حسد

اس امتحاں سے سلامت گزار دے ربیّ

 

میں مخلصانہ دعا دشمنوں کو دیتا رہوں

تو میرے دل میں وہ جذبہ ابھار دے ربیّ

 

کلائی کفر و ضلالت کی موڑ کر رکھ دیں

نوائے حق کو وہی جاں نثار دے ربیّ

 

میں جو کہوں یا لکھوں سب میں عشق ہو تیرا

مرے خیال کو اتنا نکھار دے ربیّ

 

بہت برا ہے گناہوں سے حال ساحلؔ کا

یہ بار سر سے تو اس کے اتار دے ربیّ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ