میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے

میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے

مرے خدا مری ہستی کو روشنی دے دے

 

ترے کرم سے میں کعبہ تو دیکھ آیا ہوں

مجھے کلام محمدؐ کی دلکشی دے دے

 

تو اپنے پیارے محمدؐ کے نام پر مولا

مرے ضمیر کو ملت سے دوستی دے دے

 

ترے کرم کی نہیں مجھ پہ انتہا کوئی

مجھے قضائے شہادت کی شاعری دے دے

 

یہ گلؔ غریب ہے عاصی مگر غنی دل کا

اسے علیؓ کے گھرانے کی چاکری دے دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم کا مرحلہ پیشِ نظر ہے
خدا نے سب جہاں پیدا کئے محبوبؐ کی خاطر
خدا کے ذکر پر مامور ہوں میں
حمد ہے آفتاب کا منظر
اور کہاں کو جائیں یا رب
مجھے عنایت، جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبیؐ ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا
نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
تجھی سے التجا ہے میرے اللہ