اردوئے معلیٰ

Search

میں جانتی تھی تعلق کی آخری شب ہے
سو شب بخیر نہیں کہہ سکی میں آخر میں
لرز رہے تھے مرے ہاتھ
کانپتا تھا وجود
حصار ذات میں کتنی دراڑیں پڑ گئی تھیں
میں جانتی تھی کہ اگلی صبح اذیت ہے
محبتوں کے گلابوں کی عمر اتنی تھی
ابھی خزاؤں کی آمد ہے دل کے گلشن میں
بس ایک رات کی دوری پہ ہے جہنم سی
کل آنکھ کھلتے ہی سب خواب مر گئے ہونگے
میں اس کی دسترس سے دور جا چکی ہوں گی
وہ روکنے کا بھی سوچے تو اب نہیں رکنا
میں ناگوار کوئی بوجھ کیوں بنوں اس پر
اسے تو عشق کی رتھ پر سوار ہونا ہے
اسے تو رنگ کی دنیائیں بھی میسر ہیں
وہ ایک سلطنت کا شاہ اور میں ایک کنیز
مری بساط ہی کیسی کہ دل میں جھانکوں بھی
اسے کمی نہیں ہوگی رفاقتوں کی مگر
مرے وجود کی بنیاد ہلنے والی ہے
بس آج رات کا جو رابطہ میسر ہے
اسے میں اس طرح جی لوں
کہ اس کے بعد کبھی
جو وہ بھی لوٹ کر آئے
تو نامراد رہے
میں خود کو اس قدر پتھر کروں کہ جیتے جی
نہ اسکی سوچ ہو دل میں نہ اسکی یاد رہے
کومل جوئیہ۔۔۔۔۔۔۔۔میں جانتی تھی تعلق کی آخری شب ہے
سو شب بخیر نہیں کہہ سکی میں آخر میں
لرز رہے تھے مرے ہاتھ
کانپتا تھا وجود
حصار ذات میں کتنی دراڑیں پڑ گئی تھیں
میں جانتی تھی کہ اگلی صبح اذیت ہے
محبتوں کے گلابوں کی عمر اتنی تھی
ابھی خزاؤں کی آمد ہے دل کے گلشن میں
بس ایک رات کی دوری پہ ہے جہنم سی
کل آنکھ کھلتے ہی سب خواب مر گئے ہونگے
میں اس کی دسترس سے دور جا چکی ہوں گی
وہ روکنے کا بھی سوچے تو اب نہیں رکنا
میں ناگوار کوئی بوجھ کیوں بنوں اس پر
اسے تو عشق کی رتھ پر سوار ہونا ہے
اسے تو رنگ کی دنیائیں بھی میسر ہیں
وہ ایک سلطنت کا شاہ اور میں ایک کنیز
مری بساط ہی کیسی کہ دل میں جھانکوں بھی
اسے کمی نہیں ہوگی رفاقتوں کی مگر
مرے وجود کی بنیاد ہلنے والی ہے
بس آج رات کا جو رابطہ میسر ہے
اسے میں اس طرح جی لوں
کہ اس کے بعد کبھی
جو وہ بھی لوٹ کر آئے
تو نامراد رہے
میں خود کو اس قدر پتھر کروں کہ جیتے جی
نہ اسکی سوچ ہو دل میں نہ اسکی یاد رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ