اردوئے معلیٰ

میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا

میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا

یکسر مری حیات کا نقشہ بدل گیا

 

چشمِ کرم حضور کی جس پر بھی ہو گئی

دونوں جہاں کی آفتوں سے وہ نکل گیا

 

شہرِ نبی کی برکتیں دیکھو ہیں کس قدر

جو بھی گیا ہے اس کا مقدر بدل گیا

 

شاہوں سے بڑھ کے مرتبہ ایسے گدا کا ہے

سلطانِ دو جہاں کے جو ٹکڑوں پہ پل گیا

 

بیڑا تھا ڈوبنے ہی کو طوفان میں مرا

نظریں اٹھیں حضور کی فوراً سنبھل گیا

 

قسمت میں کاش! ایسا بھی ہو کہہ اٹھیں سبھی

آصف کا جالیوں کے قریں دم نکل گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ