میں جس ارادے سے جارہی ہوں اسی ارادے سے لڑ پڑوں گی

میں جس ارادے سے جارہی ہوں اسی ارادے سے لڑ پڑوں گی

مرے سپاہی کو کچھ ہوا تو میں شاہزادے سے لڑ پڑوں گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حیف اتنا تو دمِ رخصت کیا ہوتا خیال
ابھی تو خود تم نئے نئے ھو، ھمیں سکھاؤ گےعشق کرنا ؟
موت صدیوں سے تعاقب میں ہے لیکن فارس
یہ تجربہ بھی سخن کے شمار میں آئے
آنکھ جیسے کوئی سمندر ہو اور
ہوا یقیں کہ زمیں پر ہے آج چاند گہن
پڑا ہوں میں یہاں اور دل وہیں ہے
الفاظ ہیں خنجر تو بجھا زہر میں لہجہ
میں وہ شاغل ہوں کہ اہل صفا میرے مرید
ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی