اردوئے معلیٰ

Search

میں روز اپنے لئے ضابطے بناتا ہوں

پھر اُن کو توڑتا ہوں اور نئے بناتا ہوں

 

پہنچ بھی جاؤں کہیں میں تو گھر نہیں کرتا

نئے سفر کے لئے راستے بناتا ہوں

 

مقیمِ دل ہوں میں، امید نام ہے میرا

میں خواب بُنتا ہوں اور واقعے بناتا ہوں

 

میں ٹکڑے جوڑ کے ٹوٹے ہوئے چراغوں کے

ہوا کے سامنے بیٹھا دیئے بناتا ہوں

 

بس ایک سنگِ ندامت ہے اب مری توفیق

میں پانی تکتا ہوں اور دائرے بناتا ہوں

 

نہ سنگِ میل، نہ منزل، نہ رہنما، میں تو

ستارے دیکھتا ہوں، زائچے بناتا ہوں

 

مجھے خبر ہے کہ جانا مجھے اکیلا ہے

تو پھر یہ قافلہ کس کے لئے بناتا ہوں؟

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ