اردوئے معلیٰ

میں سجدہ کروں یا کہ دل کو سنبھالوں محمد کی چوکھٹ نظر آ رہی ہے

اسی بے خودی میں کہیں کھو نہ جاؤں تڑپ کملی والے کی تڑپا رہی ہے

 

دو عالم کا داتا مرے سامنے ہے کہ کعبے کا کعبہ مرے سامنے ہے

ادا کیوں نہ فرضِ محبت کروں میںخدا کی خدائی جھکی جا رہی ہے

 

گلے میں ہیں زلفیں تو نیچی نگاہیں ، نظر چومتی ہے مدینے کی راہیں

فرشتے بھی بڑھ کر قدم لے رہے ہیں محمد کی جوگن چلی جا رہی ہے

 

فقیری کا مجھ میں نہیں ہے سلیقہ نہ آتا ہے کچھ مانگنے کاطریقہ

اِدھر بھی نگاہِ کرم یا محمد زمانے کی جھولی بھری جا رہی ہے

 

فرشتو ! سرِ راہ آنکھیں بچھا دو ، اٹھو بہر تعظیم سر کو جھکا دو

خدا کہہ رہا ہے مرے دلربا کی وہ دیکھو سواری چلی آ رہی ہے

 

یہ فرمایا حق نے کہ پیارے محمد ہمارے ہو تم ہم تمھارے محمد

ہمیں اپنے جلوؤں میں اے کملی والے تمھاری ہی صورت نظر آ رہی ہے

 

یہ جذبِ محبت ہے رحمت خدا کی ، ہے چوکھٹ مرے سامنے مصطفی کی

مجھے کیوں نہ قسمت پہ ہو ناز مسلمؔ محبت کہاں سے کہاں لا رہی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات