اردوئے معلیٰ

میں سو جاؤں سکوں پاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

میں چُوموں آپ کے پاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

 

میں جاؤں نالاں و گریاں، میں جاؤں خیزاں و اُفتاں

کبھی نہ لوٹ کر آؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

 

ملیں جو راہ میں نقشِ کفِ پا واں پہ سر رکھوں

میں در تک سر بسر جاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

 

تھکن سے چُور ہوں، بوجھل قدم ہیں چل نہیں سکتا

میں تھوڑی دیر سستاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

 

مرے سرکار کے قدموں کی ٹھنڈک، قریۂ جاں میں اُتر جائے

میں اِٹھلاؤں میں اِتراؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

 

میں سو کر خواب میں دیکھوں، قدِ رعنا، رُخِ زیبا

یہی مانگوں یہی پاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

 

مری سرکار مُجھ پر اپنی رحمت کی رِدا ڈالیں، نگاہ ڈالیں

ظفرؔ اک بار سو جاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات