اردوئے معلیٰ

میں سو جاتا ہوں کر کے گفتگو صدیقِ اکبر کی

میں سو جاتا ہوں کر کے گفتگو صدیقِ اکبر کی

نظر میں جاگتی ہے جستجو صدیقِ اکبر کی

 

زباں پر انگبیں کا ذائقہ جلوے بکھیرے گا

زباں پر بات جب لائے گا تو صدیقِ اکبر کی

 

فرشتے بھی یقیناً سر جھکا کر سن رہے ہوں گے

میں باتیں کر رہا تھا باوضو صدیقِ اکبر کی

 

جہاں جلوہ فگن کون و مکاں کے تاج والے ہیں

برابر میں لحد ہے مشکبو صدیقِ اکبر کی

 

وصالِ ثانیٔ اثنین کا ماہِ مبارک ہے

مہک پھیلی ہوئی ہے سو بسو صدیقِ اکبر کی

 

صحابہ سرورِ کونین کے سارے ستارے ہیں

سوا ہے تاب لیکن ماہ رو صدیقِ اکبر کی

 

ہمارے دل میں ہے اشفاقؔ جس فردوس کی خواہش

اسی فردوس کو ہے آرزو صدیقِ اکبر کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ