اردوئے معلیٰ

Search

میں غریب سے بھی غریب ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے

اے قسیم راحتِ دو جہاں مری سانس سانس محال ہے

 

تو خدائے پاک کا راز داں تیرا ذکر زینتِ دو جہاں

تیرے وصف کیا میں کروں بیاں تیری بات بات کمال ہے

 

میں ہوں بے نوا تو ہے بادشہ میرا تاجِ سر تیری خاکِ پا

میں ہوں ایک بھٹکی ہوئی صدا تری ذات حسنِ مآل ہے

 

تو ہی فرش پر تو ہی عرش پر تیرا یہ بھی گھر تیرا وہ بھی گھر

جہاں ختم ہوتا ہے ہر سفر تیرا اس سے آگے جمال ہے

 

تیری ذات عالی شہ عرب کہاں میں کہاں یہ مری طلب

جو ملا، ملا وہ ترے سبب مرا اس میں کیسا کمال ہے

 

نہیں تیرے بعد کوئی نبی ہوئی ختم تجھ پر پیمبری

تیری ذاتِ حسن و جمال کی نہ نظیر ہے نہ مثال ہے

 

میں یہ کیوں کہوں کہ غریب ہوں شہ دوسرا کے قریب ہوں

میں تو آسؔ روشن نصیب ہوں غمِ مصطفےٰ مری ڈھال ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ