میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​

میں محفل حرم کے آداب جانتا ہوں​

 

جو ہیں خدا کے پیارے میں ان کو چاہتا ہوں​

اُن کو اگر نہ چاہوں تو اور کس کو چاہوں​

 

ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا​

دیکھے بغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں​

 

کوئی تو آنکھ والا گزرے گا اس طرف سے​

طیبہ کے راستے میں ، میں منتظر کھڑا ہوں​

 

یہ روشنی سی کیا ہے، خوشبو کہاں سے آئی؟​

شاید میں چلتے چلتے روضے تک آگیا ہوں​

 

طیبہ کے سب گداگر پہچانتے ہیں مجھ کو​

مجھ کو خبر نہیں تھی میں اس قدر بڑا ہوں​

 

اقبال مجھ کو اب بھی محسوس ہو رہا ہے​

روضے کے سامنے ہوں اور نعت پڑھ رہا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کبھی تو میری قوم میں کچھ ایسا اتحاد ہو
بے مثل ہے کونین میں سرکارؐ کا چہرہ
میرا ہر ایک لفظ مری مدح، میرا فن
نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا، ثنا نبیؐ کی جو لکھے کامل
شہرِ اَبیات میںخامے کا سفر نازُک ہے
آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر
عزم لازم ہے نئے عہدِ وفا سے پہلے
ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی
بے چین دل نے جس گھڑی مانگا خدا سے عشق
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ