میں لکھوں حمد ربِّ مصطفیٰؐ کی

میں لکھوں حمد ربِّ مصطفیٰؐ کی

میں لکھوں نعت محبوبِ خداؐ کی

 

میں حمد و نعت باہم لکھ رہا ہوں

ثنا سے حمد ہرگز نہ جدا کی

 

جو لکھی نعت ختم المرسلیںؐ کی

خدا کی حمد سے ہی ابتدا کی

 

محبت باہمی روزِ ازل سے

شبِ معراج تجدیدِ وفا کی

 

درُود اللہ جب بھیجے نبیؐ پر

گھڑی ہوتی ہے وہ فیض و عطا کی

 

عطا کر دے ہمیں بھی عشقِ احمدؐ

خدا سے میں نے رو رو کر دعا کی

 

ظفرؔ سرکارؐ نے آسان کر دی

گھڑی آئی جو مجھ پر اِبتلا کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آدمی کب کسی شمار میں ہے
میں سو جاؤں سکوں پاؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے
دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے
وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے
میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں
نہیں کوئی حبیبِ کبریاؐ سا
جب بھی ذکرِ رسولؐ ہوتا ہے
درِ خیر البشرؐ پیشِ نظر ہے
نبیؐ کا آستاں دار الاماں ہے
مری پرواز محبوبِ خُدا کے آستاں تک ہے