اردوئے معلیٰ

Search

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری

اسے خبر ھی نہ تھی خاک کیمیا تھی مری

 

میں چپ ھوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ھوئی

پھر اس کے بعد تو آواز جابجا تھی مری

 

جو طعنہ زن تھا مری پوشش دریدہ پر

اسی کے دوش رکھی ھوئی قبا تھی مری

 

میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں

میں اس کو بھول گیا ھوں یہی سزا تھی مری

 

شکست دے گیا اپنا غرور ھی اس کو

وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری

 

کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ھی بدن

ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری

 

کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا

تو شہر عشق میں کیا آخری صدا تھی مری

 

جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ھے

اسی طرح کی تو مخلوق خاک پا تھی مری

 

ہر اک شعر نہ تھا درخور قصیدہ دوست

اور اس سے طبع رواں خوب آشنا تھی مری

 

میں اسکو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز

یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ