میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری

اسے خبر ھی نہ تھی خاک کیمیا تھی مری

 

میں چپ ھوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ھوئی

پھر اس کے بعد تو آواز جابجا تھی مری

 

جو طعنہ زن تھا مری پوشش دریدہ پر

اسی کے دوش رکھی ھوئی قبا تھی مری

 

میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں

میں اس کو بھول گیا ھوں یہی سزا تھی مری

 

شکست دے گیا اپنا غرور ھی اس کو

وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری

 

کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ھی بدن

ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری

 

کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا

تو شہر عشق میں کیا آخری صدا تھی مری

 

جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ھے

اسی طرح کی تو مخلوق خاک پا تھی مری

 

ہر اک شعر نہ تھا درخور قصیدہ دوست

اور اس سے طبع رواں خوب آشنا تھی مری

 

میں اسکو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز

یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر مسافر ہے سہارے تیرے
کیوں ترے ساتھ رھیں عُمر بسر ھونے تک ؟؟
میں جم سے آ رہا ہوں آستیں چڑھی ہوئی ہے
بزورِ تیرو تُفنگ کر لو
صبح کے آثار میں سے تھا
حرف در حرف اک دُعا ترا نام
درد سوغات تھی اداسی کی
کوئی بھیک رُوپ سُروپ کی، کوئی صدقہ حسن و جمال کا
تُم بہت گہری اُداسی کی وہ کیفیت ہو
رقص کیا رات بھر حدوں میں تھا