میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے

"​میں ہوں بندہ مرا خدا تُو ہے”​

 

غیر کے پاس کس لیے جاؤں

تُو ہی والی ہے، آسرا تو ہے

 

آرزو اور کچھ نہیں میری

میرا بس ایک مدعا تُو ہے

 

باپ سے بڑھ کے پالنے والے

ماں سے بڑھ کر بھی چاہتا تُو ہے

 

میرا ظاہر ہے تیری نظروں میں

میرا باطن بھی دیکھتا تُو ہے

 

تجھ سے پوشیدہ کون سی شے ہے

راز ہر اک کے جانتا تُو ہے

 

تیری وسعت گماں سے ہے زیادہ

ابتداء تو ہے انتہا تُو ہے

 

تو ہے دم ساز راہِ الفت میں

لڑ کھڑاؤں تو تھامتا تُو ہے

 

ہر عمل کی جزا ملے تجھ سے

ہاں مگر صوم کی جزا تُو ہے

 

تیری باتیں ہر ایک آیت میں

پورے قرآں میں بولتا تُو ہے

 

کون تیرے سوا قمرؔ کا ہے

تُو ولی، والی و وِلا تُو ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو حقِ ثنائے خدائے جہاں ہے
مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے
ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​
خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے
خدا کا ذکر، ذکرِ دل کشا ہے
ہے تو عظمت نشاں آقا و مولا
جو چڑیاں چہچہاتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی
خدا دل میں، خدا ہے جسم و جاں میں
خدا تک گر نہ ہو میری رسائی
خدا کا اعلیٰ ارفع مرتبہ ہے

اشتہارات