میں نے اشعار کہنے کی مانگی دعا

میں نے اشعار کہنے کی مانگی دعا

اور مدحت کا لہجہ مجھے مل گیا

 

میرا خامہ محبت سے چلنے لگا

شہرِ مدحت میں ہر سو اجالا ہوا

 

نعت ہوتی گئی، دل بہلتا گیا

دل میں اک نغمۂ سرمدی گونج اُٹھا

 

کہتی آئی یہ سرگوشیوں میں صبا

مرحبا، مرحبا، مرحبا، مرحبا

 

مدحِ سرکارِ عالی ﷺ میں ہے زندگی

شاعری ہے تو فی الاصل یہ شاعری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دے بصارت کو رسائی حسن کے دربار تک
وہ ہی بے لوث ہے جو آپ کی نسبت سے ملا
آپ تو صرف حکُم کرتے ہیں
سیر احوال و مقامات ہے معراج کی رات
یاد آئی تو در ناب امڈ آئے ہیں
خطا کار چوکھٹ پہ آئے ہوئے ہیں
مدحِ ناقہ سوار لایا ہوں
شکر خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
سفر ہے خواب کا اور باادب ہے
لم یات نظیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا