میں نے اک نعت لبوں پر جو سجائی ہوئی ہے

میں نے اک نعت لبوں پر جو سجائی ہوئی ہے

اُس کی تاثیر میری روح پہ چھائی ہوئی ہے

 

اس لیے حشر کی سختی سے پریشان نہیں

بات سرکار نے پہلے کی بنائی ہوئی ہے

 

حسن کا ایک جہاں ساتھ لیے پھرتا ہوں

اُن کی صورت میری آنکھوں میں سمائی ہوئی ہے

 

آپ نے سب کو خساروں سے نکالا ہے شہا

آپ آئے ہیں تو لوگوں کی بھلائی ہوئی ہے

 

ہر کسی سے میں مدینے کا پتا پوچھتا ہوں

ہاتھ میں روضے کی تصویر اُٹھائی ہوئی ہے

 

اسمِ احمد کو لکھا اور فدا چوم لیا

جس کی خوشبو میرے لہجے میں سمائی ہوئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ