اردوئے معلیٰ

میں نے سپردِ خاک کیے آخری کنول

پھر دفن ہو گیا ہوں دفینے کے ساتھ ہی

 

شرمندگی میں شکل عیاں ہو گئی مری

سب رنگ بہہ گئے ہیں پسینے کے ساتھ ہی

 

ساحل پہ کون ہے کہ سنے گا بھلا مجھے

ڈوبے گی یہ صدا بھی سفینے کے ساتھ ہی

 

دگنا ہے میرا کرب غمِ آگہی کہ میں

مر کر بھی دیکھتا رہا جینے کے ساتھ ہی

 

اس عہدِ ناسپاس کا عادی کہاں تھا غم

گھبرا کے لگ گیا مرے سینے کے ساتھ ہی

 

بامِ حیات پر تھا کوئی چاند کل تلک

دل سے اتر گیا ہے وہ زینے کے ساتھ ہی

 

گمنام زرگروں کے تخیل کا حسن بھی

سونے میں جڑ گیا ہے نگینے کے ساتھ ہی

 

تیری نفاستوں کا بڑا پاس تھا مجھے

سو قتل ہو رہا ہوں قرینے کے ساتھ ہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات