میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​

 

میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​

پھر اُس کے بعد کاغذ پر نبی تحریر کرتا ہوں​

 

میں دھو لیتا ہوں جب قرطاس سارا آبِ گریہ سے​

تب اُس پر گنبدِ خضرا کو میں تصویر کرتا ہوں​

 

مرے آنسو مری فکر ِ سُخن کو غسل دیتے ہیں​

تو پھر میں نعت کہنے کی کوئی تدبیر کرتا ہوں​

 

تمام آدابِ فن جس دم ادب آموز ہو جائیں​

میں اُن کی مدح میں الفاظ تب زنجیر کرتا ہوں​

 

میں دوڑاتا ہوں اسپِ فکر ساتوں آسمانوں پر​

مقام مصطفی پہ پھر میں کچھ تقریر کرتا ہوں​

 

سکُوتِ نیم شب میں نعت جب مجھ پہ اُترتی ہے​

ہزاروں کہکشاؤں کو میں تب تسخیر کرتا ہوں​

 

ڈبوتا ہوں میں مستی کے سفینے ” ھُو ” کے قلزم میں​

پھر ہر اِک موج ِ قلزم آپ کی جاگیر کرتا ہوں​

 

خرد کی آگ میں شب بھر پکا کر عشق کی اینٹیں​

نئے مسکن جنوں کے میں کئی تعمیر کرتا ہوں​

 

مرے ادراک کے قلبِ حزیں سے خوں نکلتا ہے​

شروع میں جب بھی ذکرِ زینب ِ دلگیر کرتا ہوں​

 

نبی کی آل کا دشمن مسلماں ہو نہیں سکتا​

کوئی گر ہے تو میں اُس کی کھلی تکفیر کرتا ہوں​

 

مری گر کوئی عزت ہے تو اُس کا بس سبب یہ ہے​

میں اہل ِ بیت کی واصف بہت توقیر کرتا ہوں​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ
مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا
سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

اشتہارات