میں کہاں جائوں تیرے در کے سوا

میں کہاں جاؤں تیرے در کے سوا

ہے کہیں کیا اماں؟ اِدھر کے سوا

 

تیری چاہت ہے میرا سرمایہ

ورنہ دنیا میں کیا ہے شر کے سوا

 

منتظر اذنِ حاضری کے ہیں

مضمحل جان چشمِ تر کے سوا

 

عشق تیرا ہو منکشف مجھ پر

پھر رہے کچھ نہ اِس اثر کے سوا

 

چاہیے اور کیا ؟ بھلا مجھ کو

میرے آقاﷺ کی اِک نظر کے سوا

 

مجھ کو ذہنِ رسا عنایت ہو

کشفِ پرواز ، بال و پر کے سوا

 

اِک ترےؐ اسم کا اُجالا ہو

قلب میں آخرت کے ڈر کے سوا

 

نعت گوئی ہے مرتضیٰؔ اعزاز

ہو عقیدت بھی جو ہنر کے سوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جود و عطا ریز
ہوئی خود حقیقت مخفی تھی جلی لباس مجاز میں
سردارِ قوم سرورِ عالم حضورؐ ہیں
حشر کے دن رتبۂ والائے سرور دیکھنا
ہر دل میں تیریؐ آرزو
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
قرارِ قلبِ مضطر ہیں مکینِ گنبدِ خضریٰ
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
چل مدینہ کی جب بھی صدا دی گئی
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل