میں کہاں جاؤں تیرے در کے سوا

میں کہاں جاؤں تیرے در کے سوا

ہے کہیں کیا اماں؟ اِدھر کے سوا

 

تیری چاہت ہے میرا سرمایہ

ورنہ دنیا میں کیا ہے شر کے سوا

 

منتظر اذنِ حاضری کے ہیں

مضمحل جان چشمِ تر کے سوا

 

عشق تیرا ہو منکشف مجھ پر

پھر رہے کچھ نہ اِس اثر کے سوا

 

چاہیے اور کیا ؟ بھلا مجھ کو

میرے آقا کی اِک نظر کے سوا

 

مجھ کو ذہنِ رسا عنایت ہو

کشفِ پرواز ، بال و پر کے سوا

 

اِک ترے اسم کا اُجالا ہو

قلب میں آخرت کے ڈر کے سوا

 

نعت گوئی ہے مرتضیٰؔ اعزاز

ہو عقیدت بھی جو ہنر کے سوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ