اردوئے معلیٰ

Search

ناخداؤں کے کھُلے کیسے بھرم پانی میں

کیا سفینے تھے کئے غرق جو کم پانی میں

 

شہر کا شہر ہوا گریہ کناں مثلِ سحاب

کون دیکھے گا کوئی دیدۂ نم پانی میں

 

ڈر نہیں سیلِ زمانہ سے کہ ہم سوختہ جاں

سنگِ جاوا ہیں، نہیں ڈوبتے ہم پانی میں

 

چھین لے مجھ سے مری خشکیِ دامن کا غرور

جوشِ گریہ! ابھی اتنا نہیں دم پانی میں

 

اشک ہے سوزِ دروں، اشک غبارِ خاطر

آتش و خاک بالآخر ہوئے ضم پانی میں

 

یونہی بھر آئے کبھی آنکھ تو ہوتی ہے غزل

آہوئے حرفِ سخن کرتا ہے رم پانی میں

 

قطرۂ اشک ہو یا جرعۂ صہبا ہو ظہیرؔ

ہم ڈبوتے نہیں اپنا کوئی غم پانی میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ